سمجھ دار

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - عقل مند، ہوشیار، دانا۔ "دن گزرتے گئے اور لڑکا سمجھ دار ہوتا گیا۔"      ( ١٩٧٨ء، براہوی لوک کہانیاں، ١٠ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ اسم 'سمجھ' کے ساتھ فارسی مصدر 'داشتن' سے فعل امر 'دار' بطور لاحقۂ فاعلی ملا کر مرکب توصیفی بنایا گیا ہے۔ اردو میں بطور اسم صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٧٠ء کو "خطبات احمدیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عقل مند، ہوشیار، دانا۔ "دن گزرتے گئے اور لڑکا سمجھ دار ہوتا گیا۔"      ( ١٩٧٨ء، براہوی لوک کہانیاں، ١٠ )